لندن: نیند کے اسکور چیک کرنا، میگنیشیم لینا اور وائٹ نوائز مشینیں استعمال کرنا اب ایک بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ بن چکا ہے جسے سلیپ میکسنگ (Sleepmaxxing) کہا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بہترین نیند حاصل کرنے کی حد سے زیادہ کوشش بعض اوقات نیند کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کر سکتی ہے۔
سلیپ میکسنگ سے مراد نیند کو بہتر اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مختلف ٹیکنالوجی، سپلیمنٹس، روٹینز اور دیگر طریقوں کا استعمال ہے۔ اگرچہ اچھی نیند کی عادات صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن نیند کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش بعض افراد میں آرتھوسومنیا (Orthosomnia) جیسی کیفیت پیدا کرسکتی ہے، جس میں انسان اپنی نیند کو بہترین بنانے کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
برطانیہ میں آرتھوسومنیا کو باضابطہ طبی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ بعض مریضوں میں اس کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ کچھ مریض نیند کے ٹریکرز کا ڈیٹا لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں اور غلط طور پر سمجھتے ہیں کہ انہیں نیند کی کوئی بیماری لاحق ہے۔
ماہرین کے مطابق نیند کے بارے میں ضرورت سے زیادہ تشویش خود نیند کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔
سلیپ میکسنگ اور نیند ٹریکرز کا بڑھتا ہوا رجحان
سلیپ میکسنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ نیند مانیٹر کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی تیزی سے بڑھا ہے۔
2009 میں Fitbit Classic ان ابتدائی کمرشل فٹنس ٹریکرز میں شامل تھا جس میں نیند کا تجزیہ کرنے کی سہولت موجود تھی۔ اس کے بعد Garmin، Whoop اور Apple سمیت متعدد کمپنیوں نے اپنی پہننے والی ڈیوائسز میں نیند کی نگرانی کے فیچرز شامل کیے۔
سمارٹ رنگز بھی نیند کی نگرانی کے رجحان کو مزید بڑھا رہے ہیں، جن میں Oura، Ultrahuman اور RingConn جیسے برانڈز شامل ہیں۔
یہ ڈیوائسز عام طور پر رات کے دوران صارف کی سرگرمی کا تجزیہ کرکے نیند کے مختلف مراحل کا اندازہ لگاتی ہیں، جن میں جاگنے کا وقت، ہلکی نیند، گہری نیند اور REM یعنی Rapid Eye Movement نیند شامل ہے۔
بہت سے ٹریکرز صارف کو ایک مجموعی "سلیپ اسکور” بھی دیتے ہیں۔
تاہم لندن کے رائل برومپٹن اسپتال میں نیند کی ماہر ڈاکٹر الانا ہیر کے مطابق نیند کے اسکور کا تصور باقاعدہ سائنسی پیمانہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ اسکور دراصل ڈیوائس بنانے والی کمپنیوں نے صارفین کو نیند کا ایک آسان عددی جائزہ فراہم کرنے کے لیے تیار کیے ہیں۔
سلیپ میکسنگ نیند سے متعلق بے چینی بڑھا سکتی ہے
اگرچہ نیند کے ٹریکرز لوگوں کو اپنی نیند کی عادات پر توجہ دینے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن سلیپ میکسنگ اس وقت نقصان دہ بن سکتی ہے جب انسان اعداد و شمار اور نیند کے اسکور کا ضرورت سے زیادہ محتاط جائزہ لینے لگے۔
ڈاکٹر الانا ہیر نے بتایا کہ انہیں ایسے زیادہ مریض نظر آرہے ہیں جو مختلف نیند ٹریکرز سے حاصل کردہ ڈیٹا اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں اور ان اعداد و شمار کی بنیاد پر نیند سے متعلق سوالات کرتے ہیں۔
کچھ مریضوں کے طبی ٹیسٹ تسلی بخش نتائج دے چکے ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے ٹریکر کے اعداد و شمار کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ایک ایسا چکر شروع ہوسکتا ہے جس میں فرد نیند کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے، بار بار اپنا ڈیٹا چیک کرتا ہے اور جب مطلوبہ اسکور حاصل نہیں ہوتا تو مزید پریشان ہوجاتا ہے۔
سلیپ میکسنگ ہمیشہ بہتر نیند کا حل نہیں
بڑھتا ہوا سلیپ میکسنگ رجحان اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ صحت مند نیند کی اہمیت کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کو کسی کارکردگی کے ہدف میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
نیند قدرتی طور پر ہر رات مختلف ہوسکتی ہے، جبکہ پہننے والی ڈیوائسز کے اعداد و شمار اندازے پر مبنی ہوتے ہیں اور طبی تشخیص کا متبادل نہیں ہیں۔ کسی ایک رات کم نیند کا اسکور لازمی طور پر نیند کی بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔
اس کے بجائے ماہرین بنیادی اور مستقل نیند کی عادات پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر نیند کے مسائل مستقل رہیں اور روزمرہ زندگی یا صحت کو متاثر کریں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔
ماہرین کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ نیند کو ہر حال میں "پرفیکٹ” بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ بعض اوقات نیند کو کنٹرول کرنے کی کوشش کم کرنا ہی بہتر نیند حاصل کرنے کی جانب اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
